نئی دہلی 20 دسمبر(ایس او نیوز)نوٹ بندی کے نام پر وزیر اعظم نریندر مودی خود کنفیوز ہیں کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں، یہ بات عام آدمی پارٹی کے لیڈراشوتوش نے کہی۔ مودی پر راست حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے ملک کے عوام کے ساتھ بار بار جھوٹ بولا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 42 دنوں میں مودی حکومت نے 59 بار نوٹفکیشن جاری کرکے ملک کی حکومت اور نظام کا تماشا بنا دیا ہے۔ 8 نومبر کی اپنی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے خود اور ان کے بعد 12 نومبر کو وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ملک کے عوام کو یہ تسلی دلانے کی کوشش کی تھی کہ جلد بازی اور عجلت میں بینکوں کی طرف نہ بھاگیں، 30 دسمبر تک پرانے نوٹوں کو بدلا جاسکتا ہے اورپرانے نوٹ جمع کرائے جا سکتے ہیں۔ لیکن 24 نومبر کو پرانے 500-1000 نوٹ بدلوانے پر پابندی لگا دی گئی اور اب تو پرانے نوٹ بینک میں جمع کرنے پر بھی حد کی پابندی لگا دی گئی ہے۔ آر بی آئی نے نوٹفکیشن جاری کیا ہے کہ اگر کوئی پرانے 500-1000 کے پرانے نوٹ 5000 ہزار روپے سے زیادہ جمع کرائے گا تو اس سے شدید پوچھ گچھ کی جائے گی اور اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ مودی حکومت نے ملک کو کھائی میں دھکیل دیا ہے کیونکہ یہ حکومت بار بار اپنے ہی احکامات کو پلٹ رہی ہے، اس حکومت کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ اس کی مستقبل کی منصوبہ بندی کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی مودی حکومت سے پوچھنا چاہتی ہے کہ آخر ملک کی عوام کو نوٹ بندی سے کب را حت ملے گی ؟ اور ساتھ ہی وہ کون سی تاریخ ہے جس دن سے عوام پہلے کی طرح آرام سے اپنی رقم بغیر کسی پابندی کے نکال پائے گی؟ پارٹی دفتر میں منعقد ہوئی پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور قومی ترجمان آشوتوش نے کہا کہ 'ملک کی موجودہ مودی حکومت نے نوٹ بندی کے نام پر کئے گئے 8 لاکھ کروڑ روپے کے گھوٹالے کے لئے ملک کے عوام کو بہت بڑی مشکل میں دھکیل دیا ہے، ملک کے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ مسلسل ہندوستان کے عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں اور نوٹ بندی کے بعد ملک میں پیدا ہوئے اقتصادی ایمرجنسی کے حالات سے نمٹنے کے لئے حکومت کے پاس مستقبل میں کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ 42 دنوں میں 59 نوٹفکیشن ملک کی مودی حکومت جاری کر چکی ہے اور بار بار اپنے ہی احکامات سے پلٹ رہی ہے، اشوتوش نے کہا کہ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ بار بار اپنے ہی حکم پلٹنے کے معاملے میں ملک کی موجودہ مودی حکومت گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی اپنا نام درج کرا لے ۔
8 نومبر کو نوٹ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے عوام کو یہ تسلی دلائی تھی کہ لوگ 30 نومبر تک اپنے پرانے 500-1000 نوٹ بدلواور بینک میں جمع کرا سکتے ہیں۔خود وزیر خزانہ نے بھی 10 نومبر اور پھر 12 نومبر کو یہ بھروسہ دلایا تھا کہ ملک کے عوام کو ہڑبڑاہٹ میں بینکوں کی لائنوں میں لگنے کی ضرورت نہیں ہے 30 دسمبر تک وہ آرام سے ایسا کر سکتے ہیں۔ لیکن ملک کی بے سمت مودی حکومت نے پہلے 24 نومبر کو پرانے نوٹوں کو بدلوانے پر پابندی لگا دی اور پھر اب 30 دسمبر سے 12 دن پہلے ہی پرانے نوٹوں کو جمع کرانے پر 5 ہزار روپے کی حد ملک کی عوام پر مسلط کردی۔ اب کسی بھی شخص کو اپنی ہی کمائی کے 500-1000 نوٹ جمع کرانے میں حکومت کی انتہائی پوچھ گچھ اور جانچ پڑتال سے گزرنا پڑے گا۔ ملک کا عام آدمی اپنی ہی کمائی کے 5 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم پرانے نوٹوں میں جمع نہیں کرا سکتا۔ ملک کے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ نے ملک کے عوام کو نہ صرف گمراہ کیا ہے بلکہ آئینی عہدوں پر رہتے ہوئے ملک کے عوام سے بار بار جھوٹ بولا ہے۔
پریس کانفرنس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پارٹی کے قومی ترجمان اور دہلی کنوینر دلیپ پانڈے نے کہا کہ 'نوٹبندی کے اس 8 لاکھ کروڑ روپے کے گھوٹالے کے نام پر ملک کی نریندر مودی حکومت نے نہ صرف ملک کے عوام کو گہری پریشانی میں ڈالا ہے بلکہ بار بار تبدیل کرنے والے احکامات کے چلتے عوام کو گمراہ بھی کیا ہے اور عوام سے بار بار جھوٹ بھی بولا ہے۔ اب یہ طے ہو چکا ہے کہ نوٹ بندی کو لے کر حکومت کی نا صرف پالیسی خراب تھی بلکہ نیت اور عمل درآمد بھی خراب تھا۔ نوٹ بندی کے بعد بتایا گیا کہ 2 ہزار روپے کے پرانے نوٹ بدلوا سکتے ہیں۔ 13 نومبر کو اس کی حد بڑھا کر 4500 کر دی جاتی ہے تو پھر 17 نومبر کو اس حد کو کم کرکے پھر سے 2 ہزار روپے کر دیا جاتا ہے۔اور پھر 24 نومبر کو تو منا ہی کر دیا جاتا ہے کہ اب پرانے نوٹ بدلے ہی نہیں جائیں گے۔ اگر اس طرح کی بے سمتی کو کم الفاظ میں کہا جائے تو یہ ایک طرح کی اقتصادی دہشت گردی ہے جو اس ملک کی مودی حکومت پھیلا رہی ہے۔اس کی زد میں 100 سے زیادہ لوگ آ چکے ہیں لیکن حکومت میں سے کوئی بھی اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 1 فیصد تک ٹرم ڈپوزٹ پر سود کی شرح کم کر دی گئی ہیں۔ای پی ایف پر سود کی شرح کم کر دی گئی ہیں، ملک کے تقریبا 4 کروڑ افراد اس سے متاثر ہوں گے۔فی الحا ل ای پی ایف پر ملنے والی سود کی شرح گزشتہ 7 سال میں سب سے کم ہے۔اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ نوٹبندی کے مسئلے پر ملک کی حکومت مکمل طور پر آسفل ہے اور ملک کو حقیقت سے ناواقف رکھا جا رہا ہے۔ہم ملک کی مودی حکومت سے دو بڑے عام سے سوال پوچھنا چاہتے ہیں تاکہ ملک کے عوام کو حقیقت کا پتہ لگ سکے۔